جنگ ستمبر 1965 کی لازوال داستان

یہ 1960 کی دہائی تھی جب پاکستان میں جنرل ایوب خان کی حکومت تھی اس وقت پاکستان کے کمانڈر اینڈ چیف جنرل موسیٰ اور وزیر خارجہ زلفقارعلی بھٹو تھے. پاکستان حکومت چاہتی تھی کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے مذاکرات کے میز پر لایا جائے. لیکن بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور ان کے جانشین لال بہادر شاستری کسی صورت مذاکرات کے لیے تیار نہ تھے. بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف بھرپور فوجی کاروائی کی جائے لیکن اس وقت کے کمانڈر اینڈ چیف جنرل موسیٰ یہ سمجھتے تھے کہ پاک فوج اس وقت جنگ کے لیے تیار نہیں. بھارت کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کا فیصلہ جنرل ایوب خان نے ہی کرنا تھا.

آپریشن جبرالٹر اور جنرل اختر حسین ملک:

اس وقت سیز فائر لائن یعنی لائن آف کنٹرول کی حفاظت پاک فوج کی بارہویں ڈویژن کے ذمہ تھی. جس کی کمان جنرل اختر حسین ملک کر رہے تھے. جنرل اختر حسین ملک نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی کارروائی کے لئے ایک منصوبہ بنا رکھا تھا. جنرل ایوب اور جنرل موسی نے جنرل اختر ملک سے اس منصوبے پر بریفنگ لی اور مکمل بریفنگ کے بعد اس آپریشن کی منظوری دے دی اور اس آپریشن کو آپریشن جبرالٹر کا نام دیا گیا, آپریشن جبرالٹر ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے تحت پاکستان سے مقبوضہ کشمیر میں فوج بھیجی جائے گی یہ فوج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملہ کرے گی اور مقبوضہ کشمیر کا کنٹرول سنبھال لے گی.
17 مئی 1965 کو جنرل اختر ملک نے اپنے زیر کمان فوج کو آپریشن جبرالٹر کی تیاری کا حکم دے دیا. اور 7 اگست 1965 کو آپریشن جبرالٹر کا آغاز کر دیا گیا. سیز فائر لائن پر بھارتی فوج پر حملے کیے اور پاک فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگئی. پاک فوج نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج پر کئی حملے کیے ایک بٹالین نیست و نابود کردی سینکڑوں بھارتی فوجی واصل جہنم ہوئے. پاک فوج نے پانچ سو مربع میل کا علاقہ آزاد کروایا. لیکن یاد رہے آپریشن جبرالٹر کے سپاہیوں کے پاس کوئی سپلائی لائن موجود نہ تھی پھر پاک فوج یہ توقع رکھتی تھی کہ کشمیری عوام بھارت کے خلاف بغاوت پر اتر آئے گی اور پاک فوج کی مدد کرے گئی لیکن ایسا نہ ہوسکا کشمیر کے لوگوں نے پولیس کو اطلاع دے دی جس کے نتیجے میں بھارت نے پاک فوج پر بھرپور جوابی کارروائی کی اور وہ چند سو فوجی جو آپریشن جبرالٹر میں شریک تھے انہیں مجبورا واپس لوٹنا پڑا. جس کے بعد بھارت نے سیز فائر لائن کے قریب آزاد کشمیر پر حملے شروع کر دیئے,

آپریشن گرینڈ سلیم اور جنرل یحییٰ کا کردار:

اب پاکستان کو جوابی کارروائی کرنا تھی جس کے لیے آپریشن گرینڈ سلیم کا آغاز کیا گیا. یکم ستمبر 1965 کو پاکستان کی 4th اٹرلی فورس کی ایک 110 توپوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ٹھکانوں پر اندھا دھند گولہ باری کی. پاک فوج نے اکھنور کی طرف پیش قدمی شروع کر دی. اور دو ستمبر کو چھمب پر قبضہ کرلیا بھارتی فوج اکھنور تک سارا علاقہ خالی کر کے بھاگ چکی تھی آپریشن گرینڈ سلیم کی فتح نظر آرہی تھی لیکن پھر ایسا واقعہ پیش آیا جس سے سب بدل کر رہ گیا آپریشن گرینڈ سلیم کی کمان جنرل اختر ملک کر رہے تھے لیکن عین فتح کے وقت جنرل موسیٰ نے جنرل اختر ملک کو ہٹا کر کر جنرل یحییٰ خان کو آپریشن گرینڈ سلام کی کمان سونپ دی, جنرل یحییٰ نے پاک فوج پیش قدمی کرنے کی بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کو کہا اس سے پاک فوج کی پیش قدمی رک گئی. جس کے بعد بھارت نے اکھنور کے اردگرد اپنی پوزیشن مضبوط کر لی. تین ستمبر کو پاک فوج نے اکھنور کی طرف پیش قدمی شروع کی بھارتی فوج کے سے ایک بھرپور جھڑپ ہوئی کئی بھارتی فوجی مارے گئے اور متعدد فرار ہوگئے پاک فوج نے جوڑیاں کے مقام پر قبضہ کرلیا.

ستمبر6 کی رات بھارت کا پاکستان پر حملہ:

اب تک بھارتی فوج پاکستان سے ایک بھرپور جنگ کے لئے تیاریاں مکمل کر چکی تھی 6 ستمبر رات 3:30 بجے بھارت نے لاہور پر حملہ کردیا. اس حملے میں بھارت کی دو بٹالین شامل تھی. بھارت نے ٹینکوں کے ساتھ لاہور پر تین اطراف سے حملہ کیا تھا. لاہور اور قصور کی حفاظت پاک فوج کی گیارویں اور بارویں ڈوین کے ذمہ تھی. بھارت کی پندرھوین ڈویژن نے واگا پر, ساتون ڈویژن نے برکی پر اور چوتھی ڈویژن نے قصور کی طرف سے حملہ کیا تھا. جیسے ہی انڈین فوج لاہور کی طرف بڑھی پاک فضائیہ کی ایک موبائل اوبزرور یونٹ نے اسے دیکھ لیا اور ہیڈ کوارٹر اطلاع دے دی. بھارتی فوج واہگہ سے ہوتے ہوئے باٹا پور کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی کہ وہاں بھارتی فوج کو پاکستانی توپ خانے کا سامنا کرنا پڑا پاکستانی توپ خانے نے بھارتی فوج پر اندھا دھند گولا باری کی اور وہاں ایک معرکہ خیز جنگ لڑی گئی جس کا تذکرہ آج بھی ہم اپنی کتابوں میں سنتے ہیں.

پاک فوج کا بھرپور دفاع:

شروع میں بھارتی فوج کے مقابلے میں پاک فوج کی پوزیشن ذرا کمزور نظر آئی, لیکن صبح کے 7 بجتے ہی پاکستانی لڑاکا طیاروں کی گھن گرج سے ماحول بدل گیا. رات دن میں بدل چکی تھی تھی دور سے آتی بھارتی فوج صاف دکھائی دے رہی تھی اور پاکستانی لڑاکا طیاروں کے لیے یہ ایک مثالی صورت تھی پاک فضائیہ نے ٹینکوں اور گاڑیوں کو طاق طاق کر کا نشانہ بنایا دیکھتے ہی دیکھتے بھارتی گاڑیاں ٹینک توپیں شعلوں کی لپیٹ میں آنے لگی. پاکستانی طیاروں نے بھارتی دونوں بٹالین میں تباہی مچا دی تھی اور بھارتی فوج کی پیش قدمی رک گئی تھی,
دوسری طرف ہڈیارہ میں پاک فوج کی ایک کمپنی جس میں سو جوان شامل تھے میجر شفقت بلوچ کی کمان میں ایک اہم پل کا دفاع کر رہی تھی یہ سو سپاہی بھارت کی ساتوی ڈویژن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے. جنرل ایوب نے میجر شفقت ملک کو پیغام پہنچایا کہ اگر تم نے بھارتی فوج کو یہاں دو گھنٹے روکے رکھا تو پورا پاکستان تمہارا احسان مند رہے گا میجر شفقت بلوچ جن کے پاس مورچے تک نہ تھے بھارتی فوج کو نو گھنٹے تک روکنے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان نے وہاں تازہ ترین فوج بھجوا کر دفاع مضبوط کرلیا.

جنرل ایوب کا خطاب:

اس وقت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا چونکہ بھارت نے رات کی تاریخی میں حملہ کیا تھا اس لیے اخبارات میں بھی بھارتی حملے کی خبر نہ تھی پاکستانی عوام کو ریڈیو کے ذریعے بھارتی حملے کا علم ہوا. ریڈیو پر جنرل ایوب خان نے پاکستانی عوام سے خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج یہ جانتی نہیں کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے جب تک دشمن کی توپیں خاموش نہ ہو جائیں ہم جنگ جاری رکھیں گے.

پاک فضائیہ کا تاریخ ساز کردار:

6 ستمبر رات ساڑھے تین بجے شروع ہونے والی چنگ دوپہر دو بجے تک خوفناک صورتحال اختیار کر چکی تھی پاک فوج اپنی دھرتی کے دفاع کے لئے بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی تھی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی بھارتی طیاروں پر گولے برسا رہے تھے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان نے پاک فضائیہ کو دشمن کی ایئر بیسز پر حملے کا حکم دے دیا. یہ حکم دوپہر تک اسکوارڈن لیڈر سجاد حیدر تک بھی پہنچا جنہوں نے بھارت کی پٹھانکوٹ بیس پر حملہ کرنا تھا ساڑھے چار بجے 8 پاکستانی سیور طیارے فضا میں بلند ہوئے 5 بج کر 5 منٹ پر پاکستانی شاہینوں نے پٹھانکورٹ پر حملہ کر دیا اور دیکھتے دیکھتے پٹھان کوٹ بیس ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی 12 بھارتی طیارے کچرے کا ڈھیر بن گئے. پٹھان کوٹ پر پاک فضائیہ کا حملہ کامیاب رہا تھا پاکستانی شاہین بغیر کسی نقصان کے اپنی ایئربیس پر واپس لوٹ آئے بعد میں اس حملے میں شریک ہر پائلٹ کو ستارہ جرات دیا گیا ان پائلٹس میں گلوکار عدنان سمیع کے والد فلائنگ آفیسر ارشد سمیع بھی شامل تھے.
پاکستان نے ہلوارا اور آدم خور کی ایک بس کو نشانہ بنایا. ہلوارہ میں پاکستانی تین سیور طیاروں کاچار ہنٹر طیاروں سے مقابلہ ہوا جنہیں پاکستانی طیاروں نے تباہ کر دیا پیچھے سے آنے والے دو طیاروں نے دو پاکستانی طیاروں کو نشانہ بنایا یہ دو طیارے تباہ ہو گئے اور پائلٹ شہید ہو گئے ایک پاکستانی طیارہ محفوظ رہا, ہلواڑہ کے علاوہ آدم پور پر بھی تین پاکستانی طیاروں نے حملہ کیا جن کا چار بھارتی ہنٹر طیاروں سے مقابلہ ہوا ایک بھارتی طیارہ حادثے کا شکار ہوا جبکہ پاکستانی کسی طیارے کو کوئی نقصان نہ پہنچا
6 اور 7 ستمبر کی درمیانی رات پاکستانی طیاروں نے ہلواڑا آدم خور اور جام نگر میں بھارتی طیاروں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 12 بھارتی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے تین ٹرانسپورٹ طیارے تباہ ہوئے اور سترہ بہارتی طیاروں کو نقصان پہنچا. فضائی محاذ پر پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی پٹھانکوٹ کا حملہ تھا.

زمینی محاذ پر پاکستان کو سب سے بڑی فتح قصور کے محاذ پر ملی جہاں بھارت نے اپنے پانچ بٹالین کے ساتھ حملہ کیا تھا پاکستانی دستوں نے ٹینکوں کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کو جلد ہی پاکستان سے باہر نکال دیا اس لڑائی پر پاکستان نے بہت سے بھارتی فوجیوں کو قیدی بنا لیا. بھارتی فوج نے پیچھے ہٹ کر دفاعی پوزیشن اختیار کر لی. لاہور کے محاذ پر بھی پاک فوج نے بھرپور دفاع کرتے ہوئے بھارتی فوج کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا تھا.

ایم ایم عالم کا ورلڈ ریکارڈ اور کھیم کرن پر قبضہ:

6 ستمبر کا دن پاک فوج کے نام رہا تھا پاک فوج نے پاک فضائیہ کے ساتھ مل جنگ کے ہر محاذ پر پر بھر پور دفاع کیا. 7 ستمبر کی صبح بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی ایئر بیسز پر حملے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی بھارتی لڑاکا طیارے جب سرگودھا بیس کی طرف بڑھے تو پھر وہ وقت بھی آیا جب دنیا نے دیکھا کہ ایک پاکستانی پائلٹ نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیارے مار گرائے اس پائلٹ کو دنیا ایم ایم عالم کے نام سے جانتی ہے. ایم ایم عالم نے اس جنگ میں کل بارہ بھارتی طیارے مار گرائے تھے. ایم ایم عالم کے بعد پاک فضائیہ کے ایک اسکورڈن نے مشرقی پاکستان کی طرف سے بھارتی ائیر بیس کلائیکوانڈا پر کھڑے 12 بھارتی طیارے مار گرائے تھے. پاک فضائیہ نے پاک سرزمین کے دفاع کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا.
دوسری جانب پاک فوج قصور کے محاذ پر بھارتی سرد کراس کر کے دشمن کے علاقے میں داخل ہوگئی.8 ستمبر کو پاک فوج نے بھارتی علاقے کھیم کرن پر قبضہ کرلیا.

پاکستان نیوی کا کردار:

جہاں زمین اور فضا میں ایک زبردست جنگ چھڑ چکی تھی وہیں سمندر میں بھی جنگ کا ماحول تھا 8 ستمبر کی رات پاکستان بحریہ نے کراچی سے 210 میل دور بھارتی ساحلی شہر دوارکا جو کاٹھیاواڑ گجرات کا حصہ ہے پر بھرپور حملہ کیا پاکستانی بحری جہازوں نے دوارکا پر ڈیڑھ گھنٹے تک بھرپور بمباری کی جس سے بھارت کا ریڈار سٹیشن تباہ ہوگیا اور بھارتی فوجی ٹھکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا. اس علاقے میں کوئی بھارتی بحری جہاز اس شہر کے دفاع کے لئے موجود نہ تھا.

کھیم کرن کا محاذ:

اس وقت بھارت کے لیے ایک اہم چیلنج دوارکا نہیں بلکہ امرتسر کو بچانا تھا کیونکہ پاکستانی ٹینک کھیم کرن سے ہوتے ہوئے امرتسر کی طرف رواں دواں تھے. جنرل ایوب خان نے اعلان کر چکے تھے کہ اب جنگ دشمن کے علاقے میں ہوگی. کھیم کرن کے مقام پر پاکستانی فوج بہت کم تعداد میں تھی جس کی وجہ سے پیش قدمی سست روی کا شکار تھی. پاکستانی فوجی دستے دن میں پیش قدمی کرتے اور رات کو انھیں واپس لوٹنا پڑتا. بھارتی فوج نے کہیں جگہوں پر پانے چھوڑ دیا جس کی وجہ سے پاکستانی ٹینکوں کی رفتار بھی سست پڑ گئی کھیم کرن کے علاقے میں پاکستان اور بھارت کے ٹینکوں کے درمیان اصل جنگ اصل اتر کے مقام پر ہوئی. یہاں تین دن کی لڑائی کے باوجود پاکستانی ٹینک آگے نہ بڑھ سکے اور پاک فوج نے امرتسر پر قبضہ کا ارادہ ترک کر دیا.لیکن پاک فوج کھیم کرن پر قابض رہی.

جنگ 65 اور میجر عزیز بھٹی کا اہم کردار:

دوسری طرف میجر عزیز بھٹی اور ان کے ساتھیوں نے لاہور کے سرحدی گاؤں برکی کے مقام پر پوزیشن سنبھال لی تھی بھارت نے چار دنوں میں 8 مرتبہ برکی پر مختلف حملے کیے آئے لیکن میجر عزیز بھٹی نے ان کے تمام حملے ناکام بنائے میجر عزیز بھٹی چھ دن اور چھ راتیں مسلسل جاگتے رہے اور تمام بھارتی حملے ناکام بنائے. 12 ستمبر کو میجر عزیز بھٹی ایک اونچے مقام پر کھڑے ہوئے بھارتی فوج کا جائزہ لے رہے تھے کہ بھارتی ٹینک کے حملے سے شہید ہو گئے

میجر عزیز بھٹی نے دشمن کو ایک ہفتے تک مسلسل روکے رکھا تھا اور اس کا اتنا نقصان کر دیا تھا کہ اب لاہور محفوظ تھا. میجر عزیز بھٹی کی جرات مندانہ صلاحیت کی وجہ سے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا.

سیالکوٹ, ٹینکوں کی لڑائی:

65 کی جنگ کا ایک اور یادگار محاذ سیالکوٹ کا محاظ تھا جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد تاریک کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی. اس محاذ پر بھارت میں 8 ستمبر کو حملہ کیا تھا. بھارتی آرمرڈ ڈویژن نے سیالکوٹ بارڈر کراس کرکے کے ظفر وال اور چونڈہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی. پاکستانی ہائی کمان نے فوری طور پر 6 آرمرڈ ڈویژن کو اس علاقے میں بھیجا جس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور دونوں ملکوں کے درمیان ٹینکوں کی ایک بڑی جنگ شروع ہوگئی. اس جنگ میں بھارت کے درجنوں ٹینک تباہ ہوئے اور بھارتی فوج کئی ٹینک یہاں چھوڑ کر بھاگ نکلی. بھارت نے 18 ستمبر تک چونڈا پر کئی حملے کیے لیکن پاک فوج نے وہ تمام حملے ناکام بنائے.

سندھ اور راجستان کا محاذ:

65 کی جنگ صرف لاہور اور سیالکوٹ تک محدود نہ تھی اس جنگ کا ایک اور محاذ سندھ اور راجستان کا محاذ بھی تھا. یہاں دشمن کی ایک ڈویژن نے گھادرا پر حملہ کرکے عمر کوٹ کی طرف پیش قدمی کی. پاکستان کی نویں برگیڈ نے کھوکھر آباد کی طرف حملہ کردیا اور دشمن کے علاقے میں پیش قدمی شروع کر دی. پاکستان نے موناباؤ اور دوسرے علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا. پاک فوج عمرکوٹ پر پہنچی بھارتی فوج کو پیچھے سے گھیر لیا جس پر 180 بھارتی فوجی سرنڈر کرنے پر مجبور ہو گئے. جنگ کے اسی محاذ پر ہی پاک فوج نے بھارت کے ایک علاقے جیسمبلمیر پر حملہ کردیا. رینجرز نے اس حملے سے پہلے پاکستانی عوام سے ایک ہزار رضا کار فراہم کرنے کی اپیل کی تھی جس پر اس علاقے میں موجود حر کمیونٹی کے ہزاروں نوجوان رینجرز کی مدد کے لیے پہنچ گئے. رینجرز اور حر کمیونٹی کے جوانوں نے بھارتی علاقے میں زبردست پیش قدمی کی اور کشن گڑھ قلعے پر قبضہ کرلیا. پاک فوج رینجرز اور حوروں کی پیش قدمی کی وجہ سے راجستھان کا سینکڑوں میل کا علاقہ پاک فوج کے قبضے میں آگیا.

سکھ بٹالین کا سرنڈر کرنا:

پاک فوج نے قصور کے محاذ پر پیش قدمی کرتے ہوئے کھیم کرن پر قبضہ کیا ہوا تھا. بھارتی فوج نے پاک فوج کو کھیم کرن سے نکالنے کے لیے حملے شروع کر دیئے. بھارت کی چوتھی سکھ بٹالین اس حملے کو لیڈ کر رہی تھی. لیکن پاک فوج نے اس بٹالین کو گھیر لیا. بھارتی کرنل آنند سنگھ سمیت 126 بھارتی فوجیوں نے پاک فوج کے آگے سرنڈر کر دیا.

جنگ بندی:

جنگ ختم ہونے تک بھارت کھیم کرن واپس نہ لے سکا. پاکستان کو بھارت کے مقابلے پر ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی تھی. جنرل ایوب کا کہنا تھا کہ ہم اپنی بقا کے لیے آخری دم تک جنگ جاری رکھیں گے جب کہ بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری بھی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن امریکہ روس اور چین کے دباؤ کی وجہ سے دونوں فریقین کو جنگ روکنا پڑی 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سیزفائر کی قرارداد منظور ہوگئی اور دونوں ممالک نے تسلیم بھی کرلیا لیکن جنگ 23 ستمبر رات تین بجے تک جاری رہی..
پینسٹھ کی جنگ چھ ستمبر رات ساڑھے تین بجے سے لے کر 23 ستمبر رات ساڑھے تین بجے تک 17 روز جاری رہی تھی

About the author

mbmquote

I'm Muhammad Bilal Malik a Patriotic Pakistani, I'm Content Writer, Web designer and Vlogger. The Purpose of creating this blog is to promote tourism, to show the beauty of our homeland and also engage our viewers by discussing about Islamic History about Pakistan, Pakistani culture, History, Social issue and Politics, I want to spread Patriotism.

View all posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *